بنگلور2/ جنوری (ایس او نیوز) بنگلور کے ایم جی روڈ اور بریگیڈ روڈ پر نئے سال کے جشن کے دوران خواتین کے ساتھ ہوئی غلط حرکتوں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر داخلہ جی پرمیشور نے پیر کو کہا کہ کرسمس اور نئے سال کے جشن کے دوران ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے اس پروگرام کے لئے خواتین کے ملبوسات کو قصوروار ٹھہرا دیا. ان کے اس بیان سے تنازعہ پیدا ہو گیا ہے اور قومی خواتین کمیشن کی صدر للتا کمار منگلم نے ان سے استعفی کا مطالبہ کیا ہے.
خیال رہے کہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جشن کے دوران 1500 پولیس اہلکار بھی موجود تھے اور ان کی موجودگی کو ٹھینگا دکھاتے ہوئے جشن میں ڈوبے نوجوانوں نے نئے سال کا جشن منانے کے لئے خواتین کو چھونے کے ساتھ ساتھ فحش حرکتیں کرنے لگے.جس کی وجہ سے افراتفری مچ گئی، کچھ لڑکیوں کے کپڑے پھاڑنے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ پریشان لڑکیاں اِدھر اُدھر بھاگتی ہوئی مدد کی درخواست کرتی نظر آئیں۔ بہت سی لڑکیاں لیڈیس پولس کے پاس جاکر رونے لگی۔ اطلاع کے مطابق لفنگوں پر قابو پانے کے لئے پولس کا خاصا بندوبست کیا گیا تھا اس کے بائوجود یہ حادثہ ہوا۔ اس موقع پرپرمیشور نے کہا کہ 'جو ہوا بدقسمتی کی بات ہے. جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ نئے سال جیسے دن پر بریگیڈ روڈ، کمرشیل اسٹریٹ، ایم جی روڈ پر بڑی تعداد میں نوجوان جمع ہوتے ہیں. مغربی رنگ میں رنگے ہوئے نوجوان نہ صرف سوچ وچار میں بلکہ کپڑے پہننے کے طریقوں میں بھی مغرب کے لاکھوں لوگوں کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں. '
وہیں، پرمیشور نے زور دے کر کہا کہ بنگلور شہر مکمل طور 'سیف' ہے اور ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو اس کے لئے پوری کوشش کی جا رہی ہے. انہوں نے کہا، 'اس طرح کے واقعات پہلے بھی ہوئے ہیں. ہم نے 25 سے زیادہ سی سی ٹی وی کیمرے لگائے ہیں اور اس کی جانچ ہوگی. بنگلور محفوظ ہے، ایسا واقعہ ہوا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ شہر سیف نہیں ہے. ہمارے افسر قصورواروں کو پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں. ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو، اس کی مکمل کوشش کی جا رہی ہے. نئے سال اور کرسمس پر ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں. ہم کافی احتیات برتتے ہیں. '
ادھر، کرناٹک کے ڈی جی پی اوم پرکاش نے بھی ان کی بات دہراتے ہوئے کہا، 'اس واقعہ کے سامنے آنے کا بعد ہم قصورواروں کی شناخت کر رہے ہیں اور ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں.' انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات سالوں سے ہوتے رہے ہیں، مگر پہلی بارایسا ہوا ہے جب خاص طور پر اس مسئلے کو اٹھایا گیا ہے. نئے سال کے جشن پر بڑی تعداد میں پولس فورس کی تعیناتی کی جاتی ہے. ہم قصورواروں کی شناخت کی کوشش کریں گے. '
یہاں، وزیر کے بیان پر قومی خواتین کمیشن کی صدر للتا کمار منگلم نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کے استعفی کا مطالبہ کیا ہے. كمارمنگلم نے کہا، 'وزیر داخلہ کی جانب سے ایسا بیان ناقابل قبول اور افسوسناک پہلو ہے. میں وزیر سے سوال کرنا چاہتی ہوں کہ کیا ہندوستانی مرد اتنے گرے ہوئے اور کمزور ہیں کہ کسی تقریب کے دن خواتین کو مغربی کپڑوں میں دیکھ کر بے قابو ہو جاتے ہیں. ' انہوں نے کہا، 'یہ ہمارے ملک کے مرد خواتین کا احترام کرنا کب سیکھیں گے. وزیر کو ملک کی خواتین سے معافی مانگنی چاہیے اور استعفی دے دینا چاہئے. '